فہد مصطفیٰ کی دوسری شادی کی حقیقت؟
فہد مصطفیٰ کی دوسری شادی کی خبریں کافی عرصے سے میڈیا میں گردش کر رہی ہیں، مگر اب تک فہد مصطفیٰ کی جانب سے نہ تو اس کی تردید کی گئی ہے اور نہ ہی تصدیق۔
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ انہوں نے دوسری شادی کی ہے یا نہیں۔ اور اگر واقعی انہوں نے دوسری شادی کر بھی لی ہے تو عوام کو اتنا منفی ردعمل دینے کی کیا ضرورت ہے؟ آخر انہوں نے نکاح ہی کیا ہے، کوئی غلط کام تو نہیں کیا۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ اگر انہوں نے شادی کر لی ہے تو بہتر ہوگا کہ وہ کھل کر اس کا اعتراف کریں اور اسے عزت و وقار کے ساتھ نبھائیں۔
اب اپنی اصل بات کی طرف آتے ہیں۔ جس خاتون کا نام فہد مصطفیٰ کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے، ان کا نام حنا امان ہے، اور ان کا مکمل نام حنا یونس ہے۔ میری ملاقات حنا سے 2014 میں ہوئی جب میں فہیم برنی کے ڈرامے "دے اجازت جو تُو" کی ایڈیٹنگ پر کام کر رہا تھا، ان کے پروڈکشن ہاؤس میں۔
اصل میں حنا امان اس ڈرامے کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر تھیں۔ اس ڈرامے کی کاسٹ میں سوہائے علی ابرو ہیروئن جبکہ فرحان سعید ہیرو تھے۔ دراصل یہ ڈرامہ فرحان سعید کا پہلا ڈرامہ بھی تھا۔ حنا امان بطور اسسٹنٹ کام کر رہی تھیں لیکن انہیں اداکاری کا بھی شوق تھا۔ اسی ڈرامے میں انہوں نے ہیروئن کی سہیلی کا ایک چھوٹا سا کردار بھی ادا کیا۔
اس زمانے میں حنا کچھ ماڈلنگ پروجیکٹس بھی کر چکی تھیں اور اکثر اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہی نظر آتی تھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت تک ان کی پہلی شادی ٹوٹ چکی تھی۔
ان دنوں میں پاکستان کے کئی بڑے پروڈکشن ہاؤسز کے مختلف پروجیکٹس پر بطور فری لانسر پوسٹ پروڈکشن کا کام کر رہا تھا۔ اسی دوران میرا فہد مصطفیٰ کے ساتھ بھی ایک معاہدہ ہوا۔ اُس وقت فہد مصطفیٰ کے ڈرامہ سیریل "دوسری بیوی" کی ریکارڈنگز چل رہی تھیں اور میری ملاقات اکثر فہد سے اسی ڈرامے کے سیٹ پر ہوتی تھی۔
چند دنوں مجھے فہد مصطفیٰ کے پروڈکشن ہاؤس میں باقاعدہ طور پر کام شروع کرنا تھا۔ فہد نے مجھے ڈیفنس فیز 1 میں پوسٹ پروڈکشن کے لیے ایک آفس فراہم کیا تھا جبکہ اُن کا مین آفس ڈیفنس فیز 6 میں موجود تھا۔ میں جب فہیم برنی کے پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا تو وہاں حنا امان بھی موجود تھیں۔
اکژ مجھے اُس پروجیکٹ سے فارغ ہو کر فہد کے آفس جانا ہوتا تو باتوں ہی باتوں میں حنا امان کو یہ پتا چل گیا کہ میں فہد مصطفیٰ کے ساتھ کام شروع کرنے والا ہوں۔ اُس وقت تک حنا کی فہد مصطفیٰ سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ چنانچہ ایک دن انہوں نے تنہائی میں مجھ سے کہا:
“اگر مجھے فہد مصطفیٰ کے پروڈکشن ہاؤس میں کام کرنے کا موقع مل جائے تو مزہ آ جائے۔ کیا آپ مجھے فہد مصطفیٰ کے پروڈکشن ہاؤس میں انٹروڈیوس کروا سکتے ہو؟ اُن کا آفس کہاں ہے؟ کیا آپ مجھے وہاں لے جا سکتے ہو؟”
یوں اچانک ہی حنا نے مجھ سے ایک ساتھ کئی سوالات کر ڈالے۔ میں نے حنا کے تمام سوالوں کے جواب دے دیے اور وہاں سے نکل کر جب اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگا تو دیکھا کہ حنا بھی میرے پیچھے آ کر کھڑی ہوگئی۔ وہ کہنے لگی: “آپ مجھے بھی اپنے ساتھ فہد مصطفیٰ کے آفس لے جائیں۔”
یہ سن کر مجھے تھوڑا عجیب سا لگا۔ میرے ذہن میں فوراً یہی سوال آیا کہ میں اسے وہاں کیوں لے جاؤں؟ اور جا کر کیا کہوں گا کہ اسے کیوں لے آیا ہوں؟ اگر کوئی مرد کولیگ ہوتا تو شاید یہ بات اور ہوتی، مگر خواتین کے معاملے میں میری ہمیشہ یہ عادت رہی ہے کہ میں انہیں کہیں بھی کام کے لیے انٹرڈیوس نہیں کرواتا تھا۔
میں ابھی حنا کے مطالبے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا کہ اسے ٹھکرا دوں، اسی کوشش میں تھا کہ وہ اچانک میری کار کا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھنے لگی۔ میں نے اسے روکا اور کہا، "اچھا، میں ایک کام کر سکتا ہوں — آپ کو وہاں کا ایڈریس دے دوں گا، آپ خود جا سکتی ہو ؛ میں آپ کو وہاں لے کر نہیں جاؤں گا۔" کافی اصرار کے بعد جب اس کے پاس کوئی اور راستہ نہ رہا تو وہ اسی بات پر راضی ہوگئی۔ میں نے اسے فہد کے آفس کا ایڈریس دے دیا اور اسے سمجھا کر وہاں سے نکل آیا۔
اس پروجیکٹ کے دوران حنا سے ملاقاتیں وقفے وقفے سے ہوتی رہیں — زیادہ تر وہی فہیم برنی کے آفس میں ملتی تھیں۔ لیکن جب ڈرامے کے اختتام کے قریب ضروری معلومات لینے ہوتیں تو حنا اکثر دستیاب نہیں ہوتی تھیں۔ چند دن بعد معلوم ہوا کہ حنا کو فہد مصطفٰیٰ کے پروڈکشن ہاؤس میں پروڈکشن کا کام مل گیا ہے۔ پھر کیا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے وہ وہاں Head of Production بن گئیں اور ٹاپ پوزیشن سنبھال لیں۔
یہ سوال تو ذہن میں آتا ہے کہ انہوں نے یہ مقام کیسے حاصل کیا؟ اس بارے میں میرے پاس واضح معلومات نہیں ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوا کہ حنا نے فہد کے پروڈکشن ہاؤس چھوڑ دیا۔ کافی عرصہ کام کرنے کے بعد وہ ایکسپریس انٹرٹینمنٹ میں شامل ہو گئیں اور وہاں بھی ان کو اعلیٰ عہدہ یعنی Director Entertainment مل گیا۔ آج کل مجھے درست پتا نہیں کہ وہ کہاں ہیں، البتہ سنا ہے کہ وہ ایک بڑی پروڈیوسر بن چکی ہیں اور کئی ڈرامے پروڈیوس کر چکی ہیں۔
اور ہاں — میری حنا کے ساتھ اس کے بعد کبھی دوبارہ ملاقات نہیں ہوئی۔ میرے فون میں حنا کا نمبر آج بھی “HINA AD” کے نام سے محفوظ ہے۔
آج کل کچھ لوگ منہ اٹھا کے جو جی میں آتا ہے بول دیتے ہیں — کوئی کہتا ہے کہ حنا فہد مصطفٰیٰ کی پہلی بیوی کی سہیلی تھی، کوئی کچھ اور کہانی گھڑ لیتا ہے۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں تھی۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہماری انڈسٹری میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ایسی لڑکیاں چند ہی سالوں میں نیچے سے اوپر تک پہنچ جاتی ہیں؟ جبکہ دوسری طرف نہ جانے کتنے باصلاحیت اور محنتی مرد اسسٹنٹ ڈائریکٹر اپنی پوری زندگی کھپا دیتے ہیں مگر ڈائریکٹر بننے کا خواب بھی پورا نہیں کر پاتے۔
نوٹ:
میں نے اوپر انہیں Head of Production لکھ دیا تھا، اصل میں یہ خاتون Head of Creative تھیں Big Bang میں۔




