ڈرامہ ریویو: سانول یار پیا کی پہلی قسط
Sanwal Yaar Piya Episode 01 – پہلی قسط کی مکمل کہانی اور ریویو
ڈرامہ سیریل "سانول یار پیا" کی پہلی قسط کا آغاز فلمی انداز میں کیا گیا ہے۔ کہانی ایک ایسی ماں سے شروع ہوتی ہے جو لیبر پین سے گزر رہی ہے، جبکہ اس کا شوہر جوئے میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس سے پہلے بھی اس کے دو بچے بروقت علاج نہ ہونے کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ غربت کی ماری یہ عورت سلائی کڑھائی کر کے گھر کا خرچ چلاتی ہے اور اسی وقت اپنے شوہر کو چار سو ستر رپے نکال کر دیتی ہے لیکن وہ بھی وہ جوئے میں ہار دیتا ہے۔
حقیقت میں یہ کردار ایک کسمپرسی کی تصویر ہونا چاہیے تھا، لیکن ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ یہ ماں فل میک اپ میں، بنی سنوری اور ٹپ ٹاپ انداز میں موجود ہے۔ یہی تضاد کہانی کی اصل شدت کو کم کر دیتا ہے اور ناظرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا یہ حقیقت کے قریب منظرنامہ ہے یا صرف ایک ڈرامائی دکھاوا؟
شوہر جوئے میں ہی لگا رہتا ہے، ادھر بیوی جان کی بازی ہار جاتی ہے اور ایک بچی کو جنم دیتی ہے۔ یہی بچی آگے چل کر اس ڈرامے کی ہیروئن بنتی ہے یعنی دُر فشاں سلیم۔ اسے فوراً کالج میں دکھایا جاتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ کالج کی اسٹوڈنٹ کم اور بڑی عمر کی لڑکی زیادہ لگتی ہے۔ مزید یہ کہ کالج کے سین میں اسے اپنی سہیلیوں کے ساتھ ہولی کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ڈراموں میں آخر یہ ہندی روایات کیوں دکھائی جاتی ہیں؟ ہم اپنی نوجوان نسل کو ایسی رسومات اور منظرنامے کیوں پیش کر رہے ہیں؟
احمد علی اکبر کو علاقے کا بڑا بدمعاش دکھایا گیا ہے جو ہر وقت لڑائی جھگڑے کرتا، قبضے کرتا اور چوری چکاری میں لگا رہتا ہے۔ وہ ایک اچھے اداکار ہیں، لیکن یہاں ان کے بولنے کا انداز عجیب سا لگا — جیسے زبردستی پنجابی لہجے میں بات کرنے کی کوشش ہو رہی ہو۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیوں ایسے کرداروں کو اپنے معاشرے کا ہیرو بنا کر دکھا رہے ہیں؟ اور اپنے بچوں کو آخر کیسا پیغام دے رہے ہیں؟
ڈرامے میں یاسر نواز بھی شامل ہیں۔ چونکہ اس کے ڈائریکٹر دانش نواز ہیں تو یہ بات تو واضح تھی کہ وہ اپنے بھائی یاسر نواز کو بھی کسی نہ کسی صورت شامل کریں گے۔ تاہم یہاں دانش اور یاسر دونوں کی تعریف کرنی پڑے گی، کیونکہ یاسر نواز نے خود ہیرو بننے کے بجائے ہیرو کے والد کا کردار ادا کیا ہے، جو کہ ایک بڑا اور مثبت فیصلہ ہے۔
یاسر نواز ڈرامے کے ہیرو فیروز خان کے والد کا کردار کر رہے ہیں۔
ہمارے ڈرامہ انڈسٹری کے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے ڈرامے حقیقت کے قریب ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دیکھیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سب کیا ہے جو ہمیں ان ڈراموں میں دکھایا جا رہا ہے؟
ہمیں اپنے ڈراموں میں معاشرے کی برائیوں کو اجاگر کرنا چاہیے، مگر اس طرح نہیں کہ برے کرداروں کو ہیرو بنا کر پیش کیا جائے۔ اس سے معاشرے کو غلط پیغام ملتا ہے۔
ابھی تو یہ صرف پہلی قسط ہے، آگے دیکھتے ہیں کہ کہانی کس رخ پر جاتی ہے۔
اضافی مشاہدات
سانول کبھی پنجابی لہجے میں بولتا ہے، کبھی سندھی میں، مگر اس جملے سے اندازہ ہو گیا کہ وہ دراصل سرائیکی ہے۔ آپ لوگوں کو کیا لگتا ہے؟
احمد علی اکبر ایک اچھے اداکار ہیں، مگر ان دو اقساط میں وہ اپنا مخصوص لہجہ برقرار نہیں رکھ سکے۔
Review by: Khurram Salahuddin
📌 مجھے Instagram پر فالو کریں: @khurram.salahuddin81
📌 Facebook پر فالو کریں: Khurram Salahuddin


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں