پاکستانی فلم "آئٹم" کی کہانی اور مسائل
ہمارے ملک پاکستان میں فلم انڈسٹری کا حال آپ سب جانتے ہی ہیں۔ بہت سے پروڈیوسرز فلمیں بنانے کی کوشش تو کرتے ہیں مگر کامیاب نہیں ہو پاتے۔ اگر تین بڑے چینلز جیسے کہ جیو، اے آر وائی اور ہم ٹی وی آپ کے ساتھ ہوں تو آپ نہ صرف فلم مکمل کر سکتے ہیں بلکہ اسے سینما کی زینت بھی بنا سکتے ہیں۔
لیکن اکثر پروڈیوسرز اپنی پوری زندگی لگا دیتے ہیں، پھر بھی ان کی فلم مکمل نہیں ہو پاتی۔ میں کچھ ایسے پروڈیوسرز کو بھی جانتا ہوں جنہوں نے اپنی ذاتی جمع پونجی بھی فلم بنانے میں لگا دی، لیکن نہ منافع حاصل ہو سکا بلکہ خرچ کی گئی رقم بھی واپس نہ مل پائی۔
پاکستانی فلم انڈسٹری میں ایک فلم کافی عرصے سے بن رہی تھی جس کا نام تھا "آئٹم"۔ انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ اس فلم کے بارے میں ضرور جانتے ہوں گے۔ اس کی پروڈیوسر اور ڈائریکٹر تھیں ہما شیخ، جبکہ اس میں مرکزی ہیروئن کا کردار ادا کر رہی تھیں عالیہ علی۔ جی ہاں، وہی عالیہ علی جو آج کل ٹی وی ڈراموں میں نظر آتی ہیں، جن کے مشہور ڈراموں میں من انگن اور خلیش شامل ہیں۔
فلم آئٹم میں عالیہ نے ایک کافی بولڈ کردار نبھایا ہے۔ اس کا اندازہ فلم کے پوسٹر سے بھی ہو جاتا ہے۔ یہ واقعی ایک بولڈ کانسپٹ اور بولڈ فلم تھی۔ ایڈیٹنگ کے سلسلے میں میرا بھی اتفاق ہوا کہ میں نے اس فلم کے کچھ کلپس دیکھے اور ڈائریکٹر سے اس کی کہانی جانی۔
کہانی کے مطابق، ہیروئن ایک مڈل کلاس لڑکی ہوتی ہے جس کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جاتی ہے۔ بعد میں وہ بدلہ لینے کے لیے ایک بولڈ کردار اختیار کر لیتی ہے۔ شاید عالیہ نے اُس وقت اس فلم میں کام کرنے کی رضامندی اس لیے دی کیونکہ انہیں ٹی وی پر زیادہ مواقع نہیں مل رہے تھے اور وہ کام کے لیے کوشاں تھیں۔
چار یا پانچ سال پہلے میں نے اس کے کلپس دیکھے تھے، لیکن یہ فلم آج تک ریلیز نہیں ہو سکی۔ صرف ایک پوسٹر ہی ریلیز ہوا تھا۔ میرے خیال میں عالیہ کے لیے یہ بہتر ہی ہوا کہ یہ فلم ریلیز نہ ہوئی، کیونکہ اس میں ان کے کام کی وجہ سے ان کے مداح بھی ناراض ہو سکتے تھے۔
جہاں تک اس فلم کے تاخیر یا ریلیز نہ ہونے کی وجوہات ہیں، وہ مجھے معلوم نہیں ہو سکیں۔ لیکن میرا یہی کہنا ہے کہ ہمیں ایسی فلمیں بنانی چاہئیں جو ہمارے معاشرے کی اقدار کے مطابق ہوں، تاکہ پروڈیوسرز کو نقصان نہ ہو اور ہماری فلمی صنعت کو بھی بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں