Pakistani Drama Sher Under Fire for Controversial Dialogue

ڈرامہ سیریل "شیر" – متنازعہ ڈائیلاگ

Pakistani Drama Sher
Pakistani Drama Sher Review

اس ڈرامے کی رائٹر زنجبیل عاصم ہیں، جو اپنے ڈراموں میں ریٹنگ کے لیے اکثر ایسے ڈائیلاگز شامل کر دیتی ہیں جو ہمارے معاشرتی اقدار کی عکاسی نہیں کرتے۔

کہانی دو بڑے جاگیرداروں کے درمیان دشمنی کے گرد گھومتی ہے۔ ابتدا میں ان کے تعلقات اچھے دکھائے گئے ہیں، لیکن زمین کے تنازع کی وجہ سے اختلافات شدت اختیار کر لیتے ہیں اور یہ جھگڑا دشمنی تک پہنچ جاتا ہے۔

ڈرامے میں نبیل ظفر ایک بااثر جاگیردار کا کردار ادا کر رہے ہیں، جن کی بیٹی سارہ خان ہے۔ دوسری طرف، دانش تیمور "شیر" کے کردار میں نظر آ رہے ہیں، جو ایک بہادر اور اصول پسند شخص ہے۔

کہانی کے دوران سارہ خان اور شیر ایک دوسرے کو پسند کرنے لگتے ہیں۔ لیکن جب شیر اپنے والدین کے ساتھ رشتہ لے کر آتا ہے، تو نبیل ظفر غصے میں آ کر اپنی بیٹی کی بات رد کر دیتے ہیں۔ اسی موقع پر کچھ ایسے جملے بولے گئے جن پر سوال اٹھایا جا رہا ہے۔

“تم میرے لیے مر چکی ہو، شاید شیر تمہاری قدر مجھ سے زیادہ کرتا ہے۔”

یہاں تک تو کہانی میں جذبات کی شدت دکھائی گئی، لیکن اس کے بعد ایک ڈائیلاگ شامل کیا گیا ہے جسے غیر ضروری اور توہین آمیز سمجھا جا رہا ہے۔ والد اپنی بیٹی کے بارے میں کہتا ہے:

“یہ اسی قابل ہے کہ اسے قیمت دے کر لے جایا جائے”

یہ جملہ ہمارے معاشرتی اور اخلاقی اقدار کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی والدین، چاہے کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنی بیٹی کو کبھی اس انداز میں رسوا نہیں کرتے۔

میرا مؤقف

ہم اکثر کہتے ہیں کہ ہمارے ڈرامے ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن اگر انہی ڈراموں میں ایسے ڈائیلاگز شامل کیے جائیں جو ہماری اقدار کے خلاف ہوں تو یہ تضاد پیدا کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے رائٹرز کو ایسے جملوں سے گریز کرنا چاہیے تاکہ کہانی حقیقت پسندانہ بھی رہے اور اخلاقی حدود کے اندر بھی۔

آپ اس بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

📌 مجھے انسٹاگرام پر فالو کریں: @khurram.salahuddin81
📌 فیس بک پر بھی جڑیں: Khurram Salahuddin

By Khurram Salahuddin

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس