اشاعتیں

اکتوبر, 2025 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں
تصویر
ماہا حسن کا نادیہ خان کے شو میں انکشاف | ڈرامہ انڈسٹری کی سچائی ماہا حسن کا نادیہ خان کے شو میں انکشاف — ڈرامہ انڈسٹری کی سچائی ماہا حسن نے نادیہ خان کے پروگرام میں ڈرامہ انڈسٹری میں خواتین کو ہراساں کیے جانے اور کام دینے کے انداز پر بات کی ہے۔ انہوں نے کہا: "نادیہ خان آپ اتنی معصوم بن رہی ہیں جیسے آپ کو کچھ پتا ہی نہیں کہ اس انڈسٹری میں کیا کیا ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کے ماں باپ آپ کو منع کرتے ہیں تو آپ کو کیا مصیبت پڑی ہے کہ آپ یہاں آ کر اس ماحول میں کام کر رہی ہیں؟" ماہا حسن نے مزید کہا: "اگر آپ کے ساتھ کچھ ہو بھی رہا ہے، تو سچ یہ ہے کہ آپ خود بھی ہر طرح کے مزے لے رہی ہوتی ہیں اور دوسروں کو بھی اسی دنیا سے متعارف کروا رہی ہیں۔ وقت پر آواز کیوں نہیں اُٹھاتے آپ لوگ؟" انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ: "یاد رہے، سب ایسے نہیں ہیں۔ میرے بہت اچھے دوست بھی ہیں — ڈائریکٹرز اور پروڈیوسرز — جو بہت ہی صاف اور پروفیشنل طریقے سے کام کر رہے ہیں۔" ماہا حسن نے مزید کہا کہ اگر کسی کے ساتھ اس طرح کے مسائل ہوں...
تصویر
پاکستانی یوٹیوب فیملیز اور “وائرل کلچر” — کب حد پار ہو جاتی ہے؟ پاکستانی یوٹیوب فیملیز اور “وائرل کلچر” — کب حد پار ہو جاتی ہے؟ آج کل یوٹیوب اور سوشل میڈیا نے ہر ایک کو اپنی بات کہنے اور اپنی زندگی دکھانے کا پلیٹ فارم دے دیا ہے۔ جہاں یہ ایک مثبت چیز ہے، وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، حال ہی میں سسٹرالوجی سسٹرز نامی یوٹیوب فیملی نے اپنے وی لاگز میں ایسا مواد پیش کیا جس نے سوشل میڈیا پر کافی بحث چھیڑ دی۔ کمال کر دیا بھئی — ان کو تو ٹیٹو کے حرام ہونے کا پتہ ہے، لیکن پھر بھی وہ کھلے عام ایسے انداز اختیار کر رہی ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے والدین بھی انہی ویڈیوز میں شامل ہوتے ہیں، جیسے یہ سب کچھ ایک عام اور قابل قبول بات ہو۔ جہاں کچھ لوگ اسے “اعتماد” یا “کھلے خیالات” کا نام دیتے ہیں، وہیں بہت سے ناظرین اسے سماجی حدود سے تجاوز سمجھتے ہیں۔ بات صرف مواد بنانے کی نہیں رہی بلکہ “وائرل” ہونے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔ کئی وی لاگز میں حد سے زیادہ د...
تصویر
عشق لازوال کی انتہائی بولڈ کانٹیسٹنٹ فاطمہ | Ishq Lazawal Show Fatima عشق لازوال کی انتہائی بولڈ کانٹیسٹنٹ فاطمہ یہ شو “عشق لازوال” ایک ڈیٹنگ شو ہے جو شروع ہونے سے پہلے ہی شدید تنقید کی زد میں آ چکا ہے۔ اس شو میں پانچ لڑکیاں اور پانچ لڑکے شریک ہو رہے ہیں۔ شو کے کانسیپٹ کے مطابق، ان سب کو ایک ہی گھر میں اکٹھا رکھا گیا ہے — بالکل اُسی طرح جیسے بِگ باس میں ہوتا ہے۔ اس شو میں یہ تمام شرکاء اپنے اپنے پارٹنر کا انتخاب کریں گے اور شاید شو سے نکلنے کے بعد شادی بھی کریں۔ یہ ایک واہیات شو ہے، کیونکہ پاکستانی معاشرے میں اس طرح کے مواد کی کوئی گنجائش نہیں ۔ یہ شو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر نشر کیا جا رہا ہے اور اس کی ریکارڈنگ ترکی میں کی گئی ہے۔ اس کی ایک کانٹیسٹنٹ فاطمہ ہیں، جو نہایت بولڈ لباس میں نظر آتی ہیں اور نام نہاد مسلم فیملی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اتنی بے باکی تو ہمیں بِگ باس جیسے بھارتی شوز میں بھی نہیں دکھائی جاتی۔ تمام لڑکیاں انتہائی بولڈ لباس میں ملبوس ہیں اور ناشائستہ گفتگو کرتی نظر آتی ہیں۔ اس شو کی ہوسٹ مایرا عمر ہیں، جو خود بھی آہستہ آہستہ انتہائی واہیات ا...
تصویر
ڈرامہ سیریل کیس نمبر 9 - ایک سماجی حقیقت پر مبنی کہانی ڈرامہ سیریل “کیس نمبر 9” — ایک سماجی حقیقت پر مبنی کہانی ڈرامہ سیریل “کیس نمبر 9” جو جیو ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے، عوام کی توجہ حاصل کرتا جا رہا ہے۔ میں اور میری طرح کے کئی لوگ جو پاکستانی ڈراموں پر تنقید کرتے ہیں، ہمارا مقصد اس انڈسٹری پر بلاوجہ تنقید کرنا نہیں ہوتا بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ڈرامہ پروڈیوسرز کو سوشل ایشوز پر ڈرامے بنانے چاہئیں۔ شاید انہی آوازوں کے بعد ڈرامہ انڈسٹری میں کچھ سماجی مسائل پر مبنی ڈرامے بننا شروع ہوئے ہیں، اور انہی میں سے ایک ہے “کیس نمبر 9” ۔ یہ ڈرامہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی کے گرد گھومتا ہے جس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ اس میں کچھ ایسے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں اکثر وہ خواتین نظرانداز کر دیتی ہیں جن کے ساتھ ریپ جیسا واقعہ پیش آتا ہے — اور یہی چیز ان کے کیس کو کمزور بنا دیتی ہے۔ امید ہے کہ ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے پر مثبت اثرات ڈالیں گے۔ اب بات کرتے ہیں کرداروں کی — جہاں فیصل قریشی اور صبا قمر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، وہیں جنید خان ، ن...