پاکستانی یوٹیوب فیملیز اور “وائرل کلچر” — کب حد پار ہو جاتی ہے؟
آج کل یوٹیوب اور سوشل میڈیا نے ہر ایک کو اپنی بات کہنے اور اپنی زندگی دکھانے کا پلیٹ فارم دے دیا ہے۔ جہاں یہ ایک مثبت چیز ہے، وہیں اس کے کچھ منفی پہلو بھی سامنے آ رہے ہیں۔
مثال کے طور پر، حال ہی میں سسٹرالوجی سسٹرز نامی یوٹیوب فیملی نے اپنے وی لاگز میں ایسا مواد پیش کیا جس نے سوشل میڈیا پر کافی بحث چھیڑ دی۔
کمال کر دیا بھئی — ان کو تو ٹیٹو کے حرام ہونے کا پتہ ہے، لیکن پھر بھی وہ کھلے عام ایسے انداز اختیار کر رہی ہیں۔ مزید حیران کن بات یہ ہے کہ ان کے والدین بھی انہی ویڈیوز میں شامل ہوتے ہیں، جیسے یہ سب کچھ ایک عام اور قابل قبول بات ہو۔
جہاں کچھ لوگ اسے “اعتماد” یا “کھلے خیالات” کا نام دیتے ہیں، وہیں بہت سے ناظرین اسے سماجی حدود سے تجاوز سمجھتے ہیں۔ بات صرف مواد بنانے کی نہیں رہی بلکہ “وائرل” ہونے کی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
کئی وی لاگز میں حد سے زیادہ دکھاوا، غیر ضروری بولڈ انداز اور ڈرامائی رویے دیکھنے کو ملتے ہیں، جو ہماری سوشل ویلیوز سے مطابقت نہیں رکھتے۔ اسی وجہ سے بحث ہو رہی ہے کہ کنٹنٹ کریئیٹرز کو اخلاقی ذمہ داری کے ساتھ مواد بنانا چاہیے۔
سوال یہ نہیں کہ کون غلط یا درست ہے — سوال یہ ہے کہ کیا ہم ناظرین بھی ایسے مواد کو دیکھ کر اس رویے کو فروغ نہیں دے رہے؟ اگر ہم ہی ان ویڈیوز کو دیکھ کر ویوز اور شہرت بڑھائیں گے تو یہ رجحان مضبوط ہوتا جائے گا۔
پاکستان میں ایسے وی لاگز یا ریئلٹی کنٹنٹ پر ہمیشہ مخلوط ردِعمل آتا ہے۔ کچھ لوگ اسے ترقی سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے اسے اخلاقی زوال قرار دیتے ہیں۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ کنٹنٹ کریئیٹرز ذمہ داری سے کام کریں اور ناظرین سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں کہ وہ کن چیزوں کو فروغ دے رہے ہیں۔


تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں