ڈرامہ سیریل “کیس نمبر 9” — ایک سماجی حقیقت پر مبنی کہانی
ڈرامہ سیریل “کیس نمبر 9” جو جیو ٹی وی پر نشر کیا جا رہا ہے، عوام کی توجہ حاصل کرتا جا رہا ہے۔ میں اور میری طرح کے کئی لوگ جو پاکستانی ڈراموں پر تنقید کرتے ہیں، ہمارا مقصد اس انڈسٹری پر بلاوجہ تنقید کرنا نہیں ہوتا بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ڈرامہ پروڈیوسرز کو سوشل ایشوز پر ڈرامے بنانے چاہئیں۔ شاید انہی آوازوں کے بعد ڈرامہ انڈسٹری میں کچھ سماجی مسائل پر مبنی ڈرامے بننا شروع ہوئے ہیں، اور انہی میں سے ایک ہے “کیس نمبر 9”۔
یہ ڈرامہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی کے گرد گھومتا ہے جس کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔ اس میں کچھ ایسے پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے جنہیں اکثر وہ خواتین نظرانداز کر دیتی ہیں جن کے ساتھ ریپ جیسا واقعہ پیش آتا ہے — اور یہی چیز ان کے کیس کو کمزور بنا دیتی ہے۔ امید ہے کہ ایسے ڈرامے ہمارے معاشرے پر مثبت اثرات ڈالیں گے۔
اب بات کرتے ہیں کرداروں کی — جہاں فیصل قریشی اور صبا قمر مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں، وہیں جنید خان، نوین وقار اور گوہر رشید معاون کرداروں میں نظر آ رہے ہیں۔ مجھے تو ان تینوں اداکاروں کی پرفارمنس مرکزی کرداروں سے بھی بہتر لگی، خاص طور پر جنید خان اور گوہر رشید نے اپنی اداکاری کے بہترین جوہر دکھائے ہیں۔ امید ہے ناظرین کو بھی ان کے کردار پسند آ رہے ہوں گے۔
میری رائے میں جنید خان کو اسی طرح کے کردار نبھانے چاہئیں۔ روایتی ساس بہو یا محبت بھرے ڈراموں کے بجائے وہ ایسے کرداروں میں زیادہ جچتے ہیں، اور اس ڈرامے میں تو انہوں نے واقعی کمال کی اداکاری کی ہے۔ اسی طرح گوہر رشید کو اکثر ایسے کردار ملتے تھے جن میں ہیروئن کو سزا کے طور پر ان سے شادی کروا دی جاتی تھی، مگر اس بار ان کا کردار الگ اور متاثرکن ہے۔ امید ہے یہ ڈرامہ آگے جا کر بھی کامیابی کے ساتھ چلتا رہے گا۔
آخر میں، اس ڈرامے کے مصنف شاہزیب خانزادہ کی بھی تعریف لازم ہے — جی ہاں، وہی شاہزیب خانزادہ جو جیو نیوز کے مشہور شو “آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ” کے میزبان ہیں۔ انہوں نے ایک حساس موضوع پر نہایت سمجھداری اور جرأت کے ساتھ قلم اٹھایا ہے۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں